• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

جنگل میں بغیر گواہوں کے نکاح کرنا کیساہے؟:

سوال:
   زید اور ہندہ دونوں جنگل بیابان میں اکیلے ہوں، جہاں کوئی بھی انسان موجود نہ ہو، اور وہ آپس میں نکاح کرنا چاہتے ہوں، تو گواہوں کے بغیر آپس میں ان کا نکاح کرنا شرعاً درست ہے؟
جواب:
   نکاح کے لیے دو گواہوں کا ہونا شرط ہے، بغیر گواہوں کے نکاح کرنا درست نہیں، اس لیے مذکورہ صورت میں زید اور ہندہ کا آپس میں بغیر گواہوں کے نکاح کرنا درست نہیں، چاہے لڑکا لڑکی جنگل میں ہوں یا آبادی میں۔

حوالہ جات:
1. سنن الترمذي، كتاب النكاح، باب ما جاء لا نكاح إلا ببينة، الرقم: 1103:
عن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: البغايا: اللاتي ينكحن أنفسهن بغير بينة.
2. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب النكاح 3/ 94:
قوله: عند حرين أو حر وحرتين، عاقلين، بالغين، مسلمين…متعلق بينعقد بيان للشرط الخاص به، وهو الإشهاد، فلم يصح بغير شهود.
3. المبسوط لشمس الأئمة السرخسي، كتاب النكاح، باب النكاح بغير شهود 5/ 35:
قال: ولو تزوج امرأة بغير شهود أو بشاهد واحد، ثم أشهد بعد ذلك لم يجز النكاح؛ لأن الشرط هو الإشهاد على العقد، ولم يوجد.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:772
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-27

image_pdfimage_printپرنٹ کریں