• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

امام کا منفرد سے لقمہ لینا کیسا ہے؟:

سوال:
   مسجد میں نماز باجماعت ہو رہی ہو، اور قریب میں ایک شخص الگ نماز ادا کررہا ہو، امام قراءت میں اٹک جائے، تو الگ نماز پڑھنے والا شخص لقمہ دے دے، اور امام لقمہ لے کر قراءت درست کرلے، تو اس نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   جو شخص جماعت میں امام کے ساتھ  شامل نہ ہو اس کا امام کو لقمہ دینا اور امام کا اس سے لقمہ لینا درست نہیں، لہٰذا مذکورہ صورت میں امام کی نماز فاسد ہوگئی ہے، البتہ اگر اس شخص کا لقمہ مکمل کرنے سے پہلے امام کو بھولی ہوئی آیت یاد آگئی اور اس نے جلدی سے پڑھ لی تو نماز درست ہے۔

حوالہ جات:
1. رد المختار لابن عابدین، کتاب الصلاة، باب مایفسد الصلاة وما یکرہ فیھا2/ 461:
   (إلا إذا تذكر )… قلت: والذي ينبغي أن يقال: إن حصل التذكر بسبب الفتح، تفسد مطلقا: أي سواء شرع في التلاوة قبل تمام الفتح، أو بعده لوجود التعلم.
2. البحر الرائق لابن نجيم،كتاب الطهارة، باب ما يفسد الصلاة، وما يكره فيها1/ 22:
   ارتج علی الإمام ففتح عليه من ليس في صلاته، وتذكر فإن أخذ في التلاوة قبل تمام الفتح لم تفسد وإلا تفسد؛ لأن تذكره مضاف إلى الفتح.
3. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الطهارة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها1/ 99:
   ارتج علی الإمام ففتح عليه من ليس في صلاته، وتذكر فإن أخذ في التلاوة قبل تمام الفتح لم تفسد وإلا تفسد؛ لأن تذكره مضاف إلى الفتح.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:732
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-23

image_pdfimage_printپرنٹ کریں