• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

غاصب پر غصب شدہ مکان کا کرایہ کب لازم ہوگا؟:

سوال:
    زید نے بکر کے مکان پر قبضہ کرلیا اور دو ماہ اس میں رہا، پھر مکان اس آدمی سے چھڑالیا گیا تو اب زید غاصب پر دو ماہ کا کرایہ دینا لازم ہے یا نہیں؟ 
جواب:
   غصب شد ہ چیز کے منافغ عام حالات میں مضمون نہیں ہوتے، یعنی اس کا تاوان غاصب سےنہیں لیا جاتا، البتہ اگر یتیم کا مال ہو یا وقف کا مال ہو یا اس چیز کو ذریعہ آمدنی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہو، جیسے گھر کرایہ پر دے کر ماہانہ کرایہ وصول کرنا، تو ان تینوں صورتوں میں مارکیٹ کے عرف کے مطابق اس کا ماہانہ کرایہ غاصب کے ذمہ لازم ہوگا، لہذا ذکر کردہ صورت میں زید نے یہ مکان  کرایہ پر دینے کے لیے بنایا یا خریدا ہو تو بکر کے ذمے دو ماہ کا کرایہ مارکیٹ کے عرف کے مطابق لازم ہوگا، اور اگر زید نے یہ مکان اپنی ذاتی رہائش کے لیے بنایا  یا خریدا ہو تو بکر کے ذمہ کرایہ دینا لازم نہیں ہوگا۔

حوالہ جات:
1. درر الحكام لعلي حيدر أفندي،الكتاب الثاني الإجارة، الباب الأول في بيان الضوابط العمومية للإجارة 1/ 460:
   الثالث: فيما إذا كان التجاوز غصبا؛ فلا تلزم الأجرة إلا إذا كان في مال معد للاستغلال، أو مال يتيم، أو وقف، أو مال بيت المال فإذا كان المال لواحد من هؤلاء، لزم أجر المثل.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطلاق، مطلب في أخذ المرأة كفيلا بالنفقة 3/ 583:
   ومفهومه أنها لو سكنت بغير إجارة في وقف أو مال يتيم أو معد للاستغلال فالأجرة عليه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:682
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16

image_pdfimage_printپرنٹ کریں