• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

قضائےعمری کی شرعی حیثیت:

سوال:
   رمضان کے آخری جمعہ  میں قضائےعمری کرنا درست ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ قضائےعمری کے نام سے جو نماز مشہور ہے کہ رمضان المبارک کے آخر میں ایک نماز باجماعت یا علیحدہ عليحده قضائے عمری کے نام سے پڑھتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ یہ نماز عمر بھر کی قضاء نمازوں کے لیے کافی ہوجاتی ہے، تو یہ بدعت اور بے اصل ہے۔
اس کے بارے میں جو حدیث پیش کی جاتی ہے وہ بھی بے اصل اور من گھڑت ہے، لہٰذا اس طرح  کرنے سے قضاء نمازوں کی ذمہ داری ختم نہیں ہوئی، بلکہ تمام قضا نمازوں کی یکے بعد دیگرے قضاء کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
1. صحيح البخاري، كتاب مواقيت الصلاة، باب قضاء الصلوات الأولى فالأولى، الرقم: 320:
عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم  قال: من نسي صلاة، فليصل إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك، {وأقم الصلاة لذكري}.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت 2/ 86:
   فالأصل فيه أن كل صلاة فاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبها فيه فإنه يلزم قضاؤها سواء تركها عمدا أو سهوا أو بسبب نوم وسواء كانت الفوائت كثيرة أو قليلة.
3. الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة لملا على قارئ،  الرقم: 519 :
   من قضى صلاة من الفرائض في آخر جمعة من شهر رمضان، كان ذلك جابرا لكل صلاة، فائتة في عمره إلى سبعين سنة باطل قطعا، لأنه مناقض للإجماع على أن شيئا من العبادات، لا يقوم مقام فائتة سنوات.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:665
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16

image_pdfimage_printپرنٹ کریں