• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

زلزلہ کی وجہ سےنماز کو توڑنا:

سوال:
   کوئی شخص باجماعت یا انفرادی طور پر نماز پڑھ رہا ہو اور اچانک زلزلہ شروع ہوجائے تو نماز توڑسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
   بوقتِ زلزلہ اگر نماز نہ توڑنے کی صورت میں اپنی یا کسی اور کی جان یا مال کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو نماز توڑنا جائز ہے۔

حوالہ جات:

1. قال الله تعالى:
ولا تلقوا بأيدکم إلې التهلكة.البقرة: ۱۹۵.
2. رد المحتار، باب ما يفسد فيها، وما يكره ۸۹/۱:
   ويباح قطعها لنحو قتل حية، وند دابة، وفور قدر، وضياع ما قيمته درهم، له أو لغيره.


واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:661
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16

image_pdfimage_printپرنٹ کریں