• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

تیمم کرکے نماز پڑھنے کے بعد پانی پر قادر ہونا یا صحت یاب ہونا:

سوال:
   اگر کوئی شخص تیمم کرکے نماز پڑھے، اور نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے یہ  شخص پانی کے استعمال پر قادر ہوگيا، یعنی اس کو پانی مل گیا، تو کیا اس کے ذمہ وضوبنا کر دوبارہ نماز پڑھنا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب:
   اگرتیمم کی شرائط ملحوظ رکھتے ہوئے، کسی نے تیمم کرکے نما ز پڑھ لی اور نماز کا وقت ابھی ختم نہیں ہواتھا کہ پانی مل گیا یا بیمار صحتیاب ہوا تو اس پر نماز کا اعادہ لازم نہیں ہے، البتہ اگر ابھی نماز نہ پڑھی ہو،  اور پانی مل جائے یا صحتیاب ہوجائے،  تو وضو کرکے نماز پڑھنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطهارة، باب التيمم 1/ 440:
   (من عجز) مبتدأ، خبره تيمم (عن استعمال الماء) المطلق الكافي لطهارته لصلاة تفوت إلى خلف (لبعد)، ولو مقيما في المصر (ميلا) … (تيمم).
2. غنية المتملي لإبراهيم الحلبي، كتاب الطهارة، باب التيمم1/ 70:
   ولو صلی بالتیمم، ثم وجد الماء في الوقت، لا يعيد.
3. كتاب الأصل للإمام محمد بن حسن الشيباني، كتاب الصلاة، باب التيمم بالصعيد 1/ 85:
   قلت: أرأيت مسافرا تيمم في أول الوقت، وصلى، ولم ينتظر إلى آخر الوقت، ثم وجد الماء بعد ما سلم، قال:صلاته تامة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:618
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12

image_pdfimage_printپرنٹ کریں