• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

@123فرضیتِ زکوۃ کے لیے مالِ زکوۃ سے کاروبار کرنا شرط نہیں

سوال:
زید نے اپنے مال سے زکوۃ ادا کی، اس پر دوسرا سال گزرنے کے بعد دوبارہ زکوۃ دینی چاہیے یا نہیں، جبکہ اس مال سے کوئی تجارت نہ کی ہو اور نہ کوئی منافع حاصل کیا ہو؟
جواب:
واضح رہے کہ مال زکوۃ ميں مال کا بقدر نصاب ہونا شرط ہے، اس سے کاروبار کرنا یا نہ کرنا شرط نہیں، لہذا مذکورہ مال پر دوبارہ سال گزرنے کے بعد زکوۃ دینا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
لما في البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الزكاة 2/ 356:
والمراد بكونه حوليا أن يتم الحول عليه، وهو في ملكه؛ لقوله عليه الصلاة والسلام (لا زكاة في مال حتى يحول عليه الحول)
وفي الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الزكاة، مطلب في زكاة ثمن المبيع وفاء 3/ 221:
(وشرطه) أي: شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه. قال ابن عابدين تحت قوله: (وهو في ملكه) أي: والحال أن نصاب المال في ملكه التام كما مر، والشرط تمام النصاب في طرفي الحول.
وفي بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الزكاة، ما يستفاد بعد الحول 2/ 96:
فنقول: لا خلاف في أن أصل النصاب، وهو النصاب الموجود في أول الحول يشترط له الحول؛ لقول النبيﷺ: (لا زكاة في مال حتى يحول عليه الحول).

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:565
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-08

image_pdfimage_printپرنٹ کریں