میت کی طرف سے بغیر وصیت کے حج ادا کرنا
سوال:
اگر کسی شخص پر حج فرض ہوگیا، لیکن وہ حج نہ کرسکا اور مرگیا اور وصیت بھی نہیں کی، تو اس کی طرف سے کوئی حج کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
اگرميت نے حجِ بدل کی وصیت نہ کی ہو، تو ورثاء پر میت کی طرف سے حج بدل ادا کرنا ضروری نہیں ہے، البتہ اگر بالغ ورثاء اپنے خرچہ سے میت کی طرف سے حج بدل کریں، یا کسی اور سے کروادیں، تو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ میت کا ذمہ فارغ ہوجائے گا۔
حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الحج، باب حكم فوت الحج عن العمرة 2/ 221:
أما الجواز فلما روي :أن رجلا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال: يا رسول الله! إن أمي ماتت، ولم تحج، أفأحج عنها؟ فقال: نعم، فقد أجاز النبي صلى الله عليه وسلم، حج الرجل عن أمه، ولم يستفسر أنها ماتت عن وصية، أو لا عن وصية.
2. حاشية الشبلي علی كنز الدقائق، كتاب الحج، باب الحج عن الغير 2/ 85:
ثم عندنا إذا مات بعد فرض الحج، ولم يوص، فحج رجل عن الميت من غير وصية، أو تبرع الورثة بذلك، فحج عن أبيه، أو أمه حجة الإسلام من غير وصية أوصى بها الميت، قال أبو حنيفة: يجزئه ذلك إن شاء الله تعالى.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:540
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-06
All Categories
- اجارہ کے مسائل (24)
- اذان کے مسائل (20)
- اعتقادی مسائل (36)
- اعتکاف کے مسائل (18)
- امانت کے مسائل (16)
- پاکی ناپاکی کےمسائل (153)
- حج کے مسائل (33)
- حدود کے مسائل (19)
- حظر واباحت کے مسائل (102)
- خرید وفروخت کے مسائل (71)
- خلع کے مسائل (16)
- دعوی کے مسائل (19)
- ذبائح اور شکار کے مسائل (17)
- رضاعت کے مسائل (17)
- روزے مسائل (44)
- زکوٰۃ کے مسائل (87)
- ضمان کے مسائل (17)
- طلاق کے مسائل (76)
- عمرہ کے مسائل (17)
- قربانی کے مسائل (18)
- قرض کے مسائل (24)
- قسم اور منت کے مسائل (25)
- قمار اور ربوا کے مسائل (20)
- كتاب الكراهية (51)
- کفارہ کے مسائل (22)
- مشترک کاروبار کے مسائل (17)
- میراث اور وصیت کے مسائل (18)
- نان نفقہ کے مسائل (19)
- نکاح کے مسائل (82)
- نماز کے مسائل (154)
- ہبہ کے مسائل (20)
- وقف کے مسائل (29)
- وکالت کے مسائل (20)

