نفلی عمرے کا ثواب ایک سے زیادہ لوگوں کو بخشنا کیسا ہے؟
سوال:
نفلی عمرے کا ثواب ایک سے زیادہ لوگوں کو بخشا جاسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
نفلی عمرے کا ثواب ایک سے زیادہ لوگوں کو بخشنا جائز ہے اور ہر ایک کو پورا ثواب پہنچے گا۔
حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الجنائز، مطلب في زيارة القبور 2/ 243:
وفي البحر: من صام، أو صلى، أو تصدق، وجعل ثوابه لغيره من الأموات، والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة، كذا في البدائع، ثم قال: وبهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المجعول له ميتا أو حيا.
2. فيه أيضا، كتاب الحج، باب الحج عن الغير 2/ 608:
فإذا أحرم بحجة عن اثنين أمره كل منهما بأن يحج عنه وقع عنه، ولا يقدر على جعله لأحدهما، وإن أحرم عنهما بغير أمرهما صح جعله لأحدهما أو لكل منهما.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:539
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-06
All Categories
- اجارہ کے مسائل (24)
- اذان کے مسائل (20)
- اعتقادی مسائل (36)
- اعتکاف کے مسائل (18)
- امانت کے مسائل (16)
- پاکی ناپاکی کےمسائل (153)
- حج کے مسائل (33)
- حدود کے مسائل (19)
- حظر واباحت کے مسائل (102)
- خرید وفروخت کے مسائل (71)
- خلع کے مسائل (16)
- دعوی کے مسائل (19)
- ذبائح اور شکار کے مسائل (17)
- رضاعت کے مسائل (17)
- روزے مسائل (44)
- زکوٰۃ کے مسائل (87)
- ضمان کے مسائل (17)
- طلاق کے مسائل (76)
- عمرہ کے مسائل (17)
- قربانی کے مسائل (18)
- قرض کے مسائل (24)
- قسم اور منت کے مسائل (25)
- قمار اور ربوا کے مسائل (20)
- كتاب الكراهية (51)
- کفارہ کے مسائل (22)
- مشترک کاروبار کے مسائل (17)
- میراث اور وصیت کے مسائل (18)
- نان نفقہ کے مسائل (19)
- نکاح کے مسائل (82)
- نماز کے مسائل (154)
- ہبہ کے مسائل (20)
- وقف کے مسائل (29)
- وکالت کے مسائل (20)

