• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

بل کی ادائیگی میں تاخیر پر مالی جرمانے لگانے کا حکم:

سوال:
   بجلی، گیس وغیرہ کے بل بر وقت ادا نہ کرنے کی صورت میں جو جرمانہ لیا جاتا ہے، شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   مختلف بلوں کو تاخیر سے جمع کرنے کی صورت میں جو زائد رقم وصول کی جاتی ہے، وہ مالی جرمانہ ہے، اور مالی جرمامہ لینا شرعا درست نہیں، لہذا بلوں کو مقررہ وقت پر ادا کرکے مالی جرمانہ لگنے سے حتی الامکان بچنا چاہیے، تاہم مالی وسعت نہ ہونے کی صورت میں تاخیر کی وجہ سے اگر جرمانہ لگ جائے تو جرمانہ لگانا اگرچہ پھر درست نہیں، لیکن امید ہے کہ صارف  گناہ گار نہیں ہو گا۔

حوالہ جات:
1.  سنن الدارقطني، كتاب البيوع، الرقم: 91:
  عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: لا يحل مال أمرئ مسلم إلا بطيب نفسه.
2. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الحدود، باب التعزير 4/ 61:
   (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال، وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز … وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر، ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة، إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي … وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى، وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام، ثم نسخ.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:530
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-04

 

image_pdfimage_printپرنٹ کریں