• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

@123خریدی ہوئی زمین مطلوبہ مقدار سے زیادہ نکلنےکاحکم

سوال:
ايک شخص نے ايک پلاٹ مثلا كنال يا دس مرلے كا خريدا اور قیمت مالک كو ادا كی اس کے بعد زمین کی پیمائش کی گئی تو پلاٹ کی مقدار زیادہ نکلی تو اب یہ زائد مقدار بائع کی ہوگی یا مشتری کی؟
جواب:
مذکورہ صورت میں پلاٹ کی قیمت فی مرلہ کے حساب سے متعین کی گئی ہو، اور بعد میں پیمائش کرکے پلاٹ کی مقدار زیادہ نکلے تو جتنے مرلے زمین زیادہ نکلی ہے اس کی قیمت مشتری بائع  کو دے کر زیادہ زمین بھی لے لے، اور اگر زیادہ زمین نہیں خریدنا چاہتا ہے تو پورا پلاٹ بائع کو واپس کرکے اپنی قیمت وصول کرلے۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب البيوع، الفصل الثامن في جهالة المبيع أو الثمن 3/ 124:
ولو قال بعت منك هذا الثوب أو هذه الأرض على أنها عشرة أذرع كل ذراع بدرهم فوجدها عشرة لزمته بعشرة دراهم ولا خيار له وإن وجدها خمسة عشر ذراعا فهو بالخيار إن شاء أخذ الجميع كل ذراع بدرهم وإن شاء تركها
وفي الدر المختار للحصكفي، كتاب البيوع 4/ 543:
(وإن باع المذروع مثله) على أنه مائة ذراع مثلا (أخذ) المشتري (الأقل بكل الثمن أو ترك) (و) أخذ (الأكثر بلا خيار للبائع) إلا إذا قبض المبيع، أو شاهده، فلا خيار له ؛لانتفاء الغرر؛ لأن الذرع وصف لتعيبه بالتبعيض ضد القدر والوصف لا يقابله شيء من الثمن، إلا إذا كان مقصودا بالتناول. قال ابن عابدين تحت قوله: (إلا إذا كان مقصودا بالتناول) أي: تناول المبيع له كأنه جعل كل ذراع مبيعا … (قوله: لصيرورته) أي الذرع أصلا أي مقصودا كالقدر في المثليات.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:459
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-27

image_pdfimage_printپرنٹ کریں