• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

قبروں کی زیارت کے لیےسفر کرنا کیسا ہے؟:

سوال:
   کسی قریبی رشتہ دار کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنا کیسا ہے، جبکہ آپ ﷺ نے احادیث میں تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد وغیرہ کی زیارت کے لیے سفر کرنے سے منع فرمایا ہے۔
جواب:
   قبروں کی زیارتِ کے لیے قبرستان جانا یا کسی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنا شرعا جائز ہے، چاہے وہ کسی قریبی رشتہ دار کی قبر ہو یا غیر رشتدار کی، باقی جس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے تین مساجد کے علاوہ سفر سے منع فرمایا ہے، اس میں زیارتِ قبور کا سفر داخل نہیں، بلکہ یہ ممانعت دیگرمساجد کے بارے میں ہے؛ کہ ان تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کی زیارت کو باعتِ اجرو ثواب سمجھ کر سفر نہ کیا جائے۔

حوالہ جات:
1. مرقاة المفاتيح لملا علي القاري، كتاب الصلاة، باب المساجد ومواضع الصلاة 2/ 589:
   وفي الإحياء: ذهب بعض العلماء إلى الاستدلال به على المنع من الرحلة لزيارة المشاهد وقبور العلماء والصالحين، وما تبين في أن الأمر كذلك، بل الزيارة مأمور بها لخبر: ( «كنت نهيتكم عن زيارة القبور ألا فزوروها» ) .
والحديث إنما ورد نهيا عن الشد لغير الثلاثة من المساجد لتماثلها، بل لا بلد إلا وفيها مسجد، فلا معنى للرحلة إلى مسجد آخر، وأما المشاهد فلا تساوي بل بركة زيارتها على قدر درجاتهم عند الله.
2. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب الصلاة، فصل بيان وجوب الدفن 1/ 320:
   ولا بأس بزيارة القبور، والدعاء للأموات، إن كانوا مؤمنين، من غير وطء القبور؛ لقول النبي صلى الله عليه وسلم: «إني كنت نهيتكم عن زيارة القبور، ألا فزوروها، فإنها تذكركم الآخرة» ، ولعمل الأمة من لدن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى يومنا هذا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:456
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-27

image_pdfimage_printپرنٹ کریں