• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

@123کتوں کی خریدوفروخت کرناکیساہے؟

سوال:
ہمارا ایک رشتہ دار ہے جو کتوں کی خرید وفروخت کا کام کرتا ہے، تو یہ جائز ہے؟
جواب:
جس كتے كو پالنا جائز ہے اس کی خرید وفرخت بھی جائز ہے، اور جس کو پالنا جائز نہیں ہے اس کی خرید وفروخت بھی جائز نہیں ہے، اور کتے کو پالنے کی اجازت اس صورت میں ہے جبکہ وہ شکار یا گھر وغیرہ کی حفاظت کے لیے ہو، لہذا شکاری یا حفاظتی کتوں کی خرید وفروخت جائز ہے، لیکن جو کتے صرف شوق پورا کرنے کے ہی پالے جاتے ہیں، ان کا کاروبار درست نہیں۔

حوالہ جات:
لما في صحيح مسلم، باب الأمر بقتل الكلاب الخ،  الرقم: 1573:
عن ابن المغفل، قال: أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتل الكلاب، ثم قال: «ما بالهم وبال الكلاب؟»، ثم رخص في كلب الصيد، وكلب الغنم.
وفي مجمع الأنهر لداماد أفندي، كتاب البيوع، مسائل شتى في البيع 2/ 107:
وذكر في المبسوط أنه لا يجوز بيع الكلب العقور الذي لا يقبل التعليم، وقال هذا هو الصحيح من المذهب، وهكذا يقول في الأسد إذا كان يقبل التعليم ويصاد به: إنه يجوز بيعه، وإن كان لا يقبل التعليم والاصطياد به، لا يجوز.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:416
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26

image_pdfimage_printپرنٹ کریں