:بارش کی چھینٹوں کا حکم
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر بارش کی چھینٹیں کسی کے بدن یا کپڑوں کو لگ جائیں، تو ان سے بدن یا کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں یا نہیں؟
جواب:
چونکہ بارش کے پانی سے اپنے آپ کو بچانے میں حرج اور مشقت ہے، اس لیے بارش کی چھینٹیں اگر بدن یا کپڑوں کو لگ جائیں، تو معاف ہیں، تاہم ان کو دھو لینا بہتر ہے۔
حوالہ جات:
1. قوله تعالی:
وأنزلنا من السمآء مآء طهورا.( الفرقان25/ 48)
2. المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب الطهارة، الفصل الرابع في المياه التي يجوز بها الوضوء، والتي لا يجوز بها 1/ 240:
المطر ما دام المطر فله حكم الجريان، حتی لو أصاب العذرات علی السطح لا ينجس.
3. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الطهارة، مطلب: في العفو عن طين الشارع 1/ 583:
طين الشوارع عفو، وإن ملأ الثوب؛ للضرورة، ولو مختلطا بالعذرات، وتجوز الصلاة معه.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:16
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-28
All Categories
- اجارہ کے مسائل (24)
- اذان کے مسائل (20)
- اعتقادی مسائل (36)
- اعتکاف کے مسائل (18)
- امانت کے مسائل (16)
- پاکی ناپاکی کےمسائل (153)
- حج کے مسائل (33)
- حدود کے مسائل (19)
- حظر واباحت کے مسائل (102)
- خرید وفروخت کے مسائل (71)
- خلع کے مسائل (16)
- دعوی کے مسائل (19)
- ذبائح اور شکار کے مسائل (17)
- رضاعت کے مسائل (17)
- روزے مسائل (44)
- زکوٰۃ کے مسائل (87)
- ضمان کے مسائل (17)
- طلاق کے مسائل (76)
- عمرہ کے مسائل (17)
- قربانی کے مسائل (18)
- قرض کے مسائل (24)
- قسم اور منت کے مسائل (25)
- قمار اور ربوا کے مسائل (20)
- كتاب الكراهية (51)
- کفارہ کے مسائل (22)
- مشترک کاروبار کے مسائل (17)
- میراث اور وصیت کے مسائل (18)
- نان نفقہ کے مسائل (19)
- نکاح کے مسائل (82)
- نماز کے مسائل (154)
- ہبہ کے مسائل (20)
- وقف کے مسائل (29)
- وکالت کے مسائل (20)

