• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

حالت ِسفر میں سنتیں پڑھنے کا حکم:

سوال:
   سفرکی حالت میں سنت نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   مسافر اگرکسی جگہ اطمینان کے ساتھ ٹھہرا ہوا ہو، تو فرائض کے ساتھ سنتیں بھی پڑھنا افضل ہے  اور اگر جلدی میں ہو، یا سفر جاری ہو، توسنتیں چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ فجر کی سنتوں کے بارے میں احادیث میں بہت تاکید آئی ہے، اس لیےسفر میں بھی فجر کی سنتوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجیم، کتاب الصلاة، باب المسافر 2/ 230:
   وفي التنجيس: والمختار أنه إن كان حال أمن وقرار يأتي بها؛ لأنها مكملات، والمسافر إليه محتاج، وإن كان حال خوف لايأتي بها؛ لأنها ترك لعذر.
2. الدر الختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب المسافر 2/ 737:
   (ويأتي) المسافر (بالسنن) إن كان (في حال أمن وقرار، وإلا) بأن كان في خوف وفرار (لا) يأتي بها، وهو المختار؛ لأنه ترك لعذر”تنجيس” قيل: إلا سنة الفجر.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:95
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-20

 

image_pdfimage_printپرنٹ کریں