• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

تکلیف کی وجہ سے آنکھ سے نکلنے والے پانی کا وضو پر اثر:

سوال:
   وہ پانی جو آنکھ میں درد ہونے کی وجہ سے نکلے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:
   اس مسئلہ میں کتب فتاوی میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے، بعض حضرات نے اس کو مطلقا ناقض وضو قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے اس میں تفصیل کی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ اگر آنکھ سے نکلنے والا پانی کا رنگ زرد یا سرخ ہو تو اس سے وضو ٹوٹتاہے ورنہ نہیں، لیکن احتیاط کا تقاضہ یہ ہے، کہ اگر آنکھ میں درد یا زخم ہو تو صاف پانی  نکلنے کی صورت میں بھی ا س  کو ناقض وضو قرار دیا جائے، نیز اگر یہ آنسو مسلسل آرہے ہوں تو معذور کے حکم پر بھی عمل کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات:
1. الدرالمختار للحصکفي، کتاب الطھارة، نواقض الوضوء 1/ 305:
   (وإن خرج به) أي بوجع (نقض)؛ لأنه دليل الجرح.
2. ردالمحتار لابن عابدين، كتاب الطهارة 1/ 306:
   وظاھرہ أن المدار على الخروج لعلة وإن لم يكن معه وجع.
3. النهر الفائق للزيلعي، كتاب الطهارة  1/ 53:
   ولو في عينه رمد أو عمش يسيل منها الدموع، قالوا: يؤمر بالوضوء.
4. الفتاوى التاتارخانية، كتاب الطهارة، الفصل الثاني، ما يوجب الوضوء 1/ 244:
   وفي نوادر هشام عن محمد: الشيخ إذا كان في عينه رمد أو عمش، ويسيل منهما الدموع، آمره بالوضوء لوقت كل صلاة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:94
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-09-19

 

image_pdfimage_printپرنٹ کریں