فوت شدہ نمازوں کا زندگی میں فدیہ دینا:
سوال:
اگر کوئی شخص فوت شدہ نمازوں کا فدیہ زندگی میں دینا چاہے، تو شرعا ایسا کرنا کیسا ہے؟
جواب:
شرعا زندگی میں فوت شدہ نمازوں کا فدیہ دینا صحیح نہیں ہے، بلکہ انسان جب تک زندہ ہو تو فوت شدہ نمازوں کی قضا اس پر لازم ہے، اگر زندگی میں فوت شدہ نمازوں کی قضا نہ کر سکے، تو مرنے سے پہلے فدیہ کی وصیت کرنا لازم ہو گا، اگر كسی نے زندگی میں نمازوں کا فدیہ دے دیا تو وہ صدقہ ہوگا، مرنے کے بعد فوت شدہ نمازیں ذمہ میں برقرار رہیں گی۔
حوالہ جات:
1. الهندية للجنة العلماء، كتاب الصلاة، الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت 1/125:
وفي اليتيمة: سئل الحسن بن علي رضى الله عنهما عن الفدية عن الصلوات في مرض الموت هل يجوز؟ فقال: لا، وسئل حمير الوبري، وأبو يوسف بن محمد عن الشيخ الفاني هل تجب عليه الفدية عن الصلوات كما تجب عليه عن الصوم، وهو حي؟ فقال: لا،
2. الدر المختار للحصکفي، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت 2/74:
ولو فدى عن صلاته في مرضه، لا يصح، بخلاف الصوم.
3. رد المحتارلابن عابدين ، كتاب الصلاة، مطلب في بطلان الوصية بالختمات والتهاليل 1/74:
أقول: ووجه ذلك أن النص إنما ورد في الشيخ الفاني … ولعل وجهه أنه مطالب بالقضاء إذا قدر، ولا فدية عليه إلا بتحقيق العجز عنه بالموت فيوصى بها.
والله أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعۃ دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:10
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-08-25
All Categories
- اجارہ کے مسائل (24)
- اذان کے مسائل (20)
- اعتقادی مسائل (36)
- اعتکاف کے مسائل (18)
- امانت کے مسائل (16)
- پاکی ناپاکی کےمسائل (152)
- حج کے مسائل (33)
- حدود کے مسائل (19)
- حظر واباحت کے مسائل (102)
- خرید وفروخت کے مسائل (71)
- خلع کے مسائل (16)
- دعوی کے مسائل (19)
- ذبائح اور شکار کے مسائل (17)
- رضاعت کے مسائل (17)
- روزے مسائل (44)
- زکوٰۃ کے مسائل (87)
- ضمان کے مسائل (17)
- طلاق کے مسائل (76)
- عمرہ کے مسائل (17)
- قربانی کے مسائل (18)
- قرض کے مسائل (24)
- قسم اور منت کے مسائل (25)
- قمار اور ربوا کے مسائل (20)
- كتاب الكراهية (51)
- کفارہ کے مسائل (22)
- مشترک کاروبار کے مسائل (17)
- میراث اور وصیت کے مسائل (18)
- نان نفقہ کے مسائل (19)
- نکاح کے مسائل (82)
- نماز کے مسائل (154)
- ہبہ کے مسائل (20)
- وقف کے مسائل (29)
- وکالت کے مسائل (20)