• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

نسوار استعمال کرنے کا حکم:

سوال:
   نسوار کا کیا حکم ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس لیے نسوار کا استعمال کرتے ہیں کہ بڑے نشے سے بچ جائیں، اس نیت سے نسوار کا استعمال کرنا شرعا جائز ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ نسوار تمباکو اور چونا وغیرہ سے بنتی ہے، اور تمباکو کا استعمال شرعا مباح ہے، تو نسوار کا استعمال بھی مباح ہے، تاہم نسوار کی بدبو سے لوگوں کو چونکہ تکلیف ہوتی ہے اس لیے مسجد یا کسی مجلس میں جانے سے پہلے منہ کو اچھی طرح صاف کرلینا چاہئے، نیز نسوار کے استعمال کے بعد اسے مناسب جگہ پھینک دینا چاہیے، تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔

حوالہ جات:
   الدر المختار للحصكفي،كتاب الأشربة 6/ 460:
   فيفهم منه حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن فتنبه، وقد كرهه شيخنا العمادي في هديته إلحاقا له بالثوم والبصل بالأولى.
قال ابن عابدين تحت قوله: (قوله فيفهم منه حكم النبات) وهو الإباحة على المختار أو التوقف، وفيه إشارة إلى عدم تسليم إسكاره وتفتيره وإضراره، وإلا      لم يصح إدخاله تحت القاعدة المذكورة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:805
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-29

image_pdfimage_printپرنٹ کریں