• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

وراثت میں کسی چیز پر ناحق قبضہ کرنا:

سوال:
   ایک شخص نے ٹیکسی گاڑی خرید کر اس شرط پر بیٹے کودے دی، کہ وہ اس سے کما کربیوی  بچوں کا خرچہ برداشت کرے، اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ گاڑی میری ہوگی، اس معاہدے پر گواہ بھی موجودہیں، پھر دینے والے شخص کا انتقال ہوگیا، بیٹے نے گاڑی پر قبضہ کرلیا اورملکیت کا دعویدار بن گیا، اب وہ اس کو ترکہ میں شامل کرنے کو تیار نہیں، تواس کا کیا حل ہوگا؟ 
جواب:
   مذکورہ صورت میں بیٹے کا اپنی ملکیت کا دعوی کرنا بے بنیاد ہے، اس لیے کہ والد کی ملکیت پر باقاعدہ گواہ موجود ہیں، چنانچہ یہ ٹیکسی ترکہ میں شامل ہوگی اور تمام ورثاء میں ان کے حصوں کے بقدر تقسیم کی جائےگی۔
یاد رہے کہ کسی کے حق پر ناجائز قبضہ کرنابڑا گناہ ہے، مختلف احادیث میں اس پر بڑی وعیدیں آئی ہیں، چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص(کسی کی) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی۔

حوالہ جات: 
1. صحيح مسلم، كتاب المساقاة، باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها، الرقم: 1610:
عن سعيد بن زيد، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»
2. السنن الكبرى، كتاب قتال أهل البغي، باب أهل البغي إلخ، الرقم: 16756:

   عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” لا يحل مال رجل مسلم لأخيه , إلا ما أعطاه بطيب نفسه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:792
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-28

image_pdfimage_printپرنٹ کریں