• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

طلاق کے بعد نابالغ اولاد کا خرچہ کس پر ہے؟:

سوال:
   زید نے اپنی  بیوی کو طلاق دے دی اور زید کا چار سالہ بیٹا ہے جو ماں کے پاس ہے، تو زید بیٹے کا خرچہ دینے سے انکار کرتا ہے، کہتا ہے کہ جب بچہ ما ں کے ساتھ ہے تو خرچہ بھی اسی پر ہوگا، تو شرعی کیا حکم ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ طلاق کے بعد سات (7) سال تک بچے کی  پرورش کا حق ماں کو حاصل ہے، اور اس دوران بچے کے جملہ اخراجات باپ پر ہیں، لہذا مذکورہ صورت ميں باپ کا خرچہ دینے سے انکا ر کرنا کسی طرح درست نہیں۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطلاق، باب النفقة  4/ 218:
   (قوله ولطفله الفقير) أي تجب النفقة والسكنى والكسوة لولده الصغير الفقير لقوله تعالى: {وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف} [البقرة: 233] فهي عبارة في إيجاب نفقة المنكوحات، إشارة إلى أن نفقة الأولاد على الأب … وأن الأب ينفرد بتحمل نفقة الولد، ولا يشاركه فيها أحد، وأن الولد إذا كان غنيا، والأب محتاجا لم يشارك الولد أحد في نفقة الوالد، ذكره المصنف في شرح المنار: قيد بالطفل، وهو الصبي حين يسقط من البطن إلى أن يحتلم.
2. الجوهرة النيرة لأبي بكر بن علي، كتاب النفقات 2/ 91:
   (قوله والأم والجدة أحق بالغلام حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده ويستنجي وحده) قدره الخصاف بسبع سنين اعتبارا للغالب، والمراد بالاستنجاء أن يطهر نفسه من النجاسات.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:765
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-26

image_pdfimage_printپرنٹ کریں