• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

ہوٹل میں کھانے کی قیمت معلوم کیے بغیر آرڈر دینا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل عام طور پر لوگ ہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں اور کھانے کے بعد ہوٹل والے اس کے سامنے کھانے کابِل  بناکر رکھ  دیتے ہیں ، اور یہ اس بل کوادا کرتا ہے، تو کیا شرعا اس طرح کرنا جائز ہے؟
جواب:
   چونکہ اکثر وبیشتر ہوٹلوں میں کھانے  پینے کے اشیاء کی قیمتیں مینیوکارڈ (Menu card)پر لکھی ہوئی ہوتی ہیں یا ہوٹل والوں سے پوچھنے پر بتا دی جاتی ہیں، لوگ آرڈر دے کر کھانا وغیرہ کھاتے ہیں، اور بعد میں ادائیگی کرتے ہیں، اس لیے اگر ریٹ پر تنازع کا اندیشہ نہ ہو تو ریٹ معلوم کرنا ضروری نہیں اور یہ معاملہ شرعا درست ہے، البتہ اگر بعد میں ریٹ پر جھگڑے کا خطرہ ہو، تو ابتداء ہی سے ریٹ معلوم کرنا ضروری ہے، تاکہ بعد میں جھگڑنے کی نوبت پیش نہ آئے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار مع درالمحتار للحصكفي، كتاب البيوع، فروع في البيع 4/ 516:
   ما يستجره الإنسان من البياع إذا حاسبه على أثمانها بعد استهلاكها، جاز استحسانا.
قال ابن عابدین تحت قوله: ما يستجره الإنسان إلخ) … الأشياء التي تؤخذ من البياع على وجه الخرج كما هو العادة من غير بيع كالعدس والملح والزيت ونحوها ثم اشتراها بعد ما انعدمت صح. اهـ.فيجوز بيع المعدوم هنا. اهـ. قال: بعض الفضلاء: ليس هذا بيع معدوم، إنما هو من باب ضمان المتلفات بإذن مالكها عرفا تسهيلا للأمر، ودفعا للحرج كما هو العادة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:752
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-23

 

image_pdfimage_printپرنٹ کریں