• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

انفرادی نماز پڑھنے کے بعد نفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہونا:

سوال:
   ایک شخص نے عصر کی نماز گھر میں ادا کی، پھر مسجد جاکر جماعت میں دوبارہ شامل ہوگیا تو اس طرح کرنا درست ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ ایک دفعہ نماز ادا کرنے سے انسان کا ذمہ فارغ ہو جاتا ہے، دوبارہ فرض نماز کی نیت سے نماز میں شمولیت درست نہیں ہوتی، البتہ اگر ایک مرتبہ اکیلے نماز پڑھ لی، پھر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقع ملا، تو ظہر اور عشاء کی نمازوں میں نفل کی نیت سے شرکت کی جاسکتی ہے،اور اس سے اس نماز کی جماعت کا ثواب بھی مل جائے گا، لیکن عصراور فجر کے بعد چونکہ نوافل پڑھنا، ایسے ہی نفل نماز تین رکعت پڑھنا درست نہیں، اس لیے فجر، عصر اور مغرب کی نمازوں میں نفل کی نیت سے شمولیت درست نہیں ہوگی۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصلاة، باب إدراك الفريضة2/ 53:
   (ثم اقتدى) بالإمام (متنفلا، ويدرك) بذلك (فضيلة الجماعة) حاوي (إلا في العصر) فلا يقتدي لكراهة النفل بعده.
2. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب الصلاة، باب إدراك الفريضة،1/ 181:
   ويقتدي متطوعا أي بعد فراغ الفرض وحده؛ لأن الفرض لا يتكرر في وقت واحد وحكم العشاء كالظهر في جميع ما ذكرناه، وكذا العصر إلا أنه إذا أتمها وحده لا يشرع مع الإمام لكراهة النفل بعد صلاة العصر… قال  رحمه الله (فإن صلى ركعة من الفجر أو المغرب فأقيم يقطع ويقتدي) … وإذا أتمها لم يشرع مع الإمام؛ لكراهية النفل بعد صلاة الفجر، ولما فيه من الإتيان بالوتر في النفل بعد المغرب، أو مخالفة إمامه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:733
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-23

image_pdfimage_printپرنٹ کریں