• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

مسجد کی زائد اشیاء دوسری مسجد یا ذاتی استعمال میں لانا کیسا ہے؟:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد کی  زائد از ضرورت الماری مدرسہ یا ذاتی ضرورت کے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟  
جواب:
   مسجد کی وہ اشیاء جو ضرورت سے زائد ہوں اور مسجد کے کام نہ آتے ہوں، ان چیزوں کو ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں، بلکہ مسجد کی کمیٹی یا متولی مسجد کو چاہیے کہ ان اشیاء کو فروخت کرکے ان کی قیمت مسجد کی دوسری ضروریات میں استعمال کرے۔

حوالہ جات:
1. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الوقف، فصل اختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف 5/ 272:
   وأما الحصیر، والقناديل، فالصحيح من مذهب أبي يوسف أنه لا يعود إلى ملك متخذه بل يحول إلى مسجد آخر، أو يبيعه قيم المسجد للمسجد.
2. الميحط البرهاني ابن ماجه،كتاب الوقف، فصل في المساجد وهو أنواع 6/ 99:
   والصحيح من مذهب أبي يوسف في فصل الحصير، أنه لا يعود إلى ملك صاحبه بخراب المسجد، بل يحول إلى آخر، ويبيعه قيم المسجد للمسجد.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:694
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16

 

image_pdfimage_printپرنٹ کریں