• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

مال حرام کسی کو رشوت میں دینا:

سوال:
   سود کی رقم کسی کو رشوت کے طور پر دینا جائز ہے؟ جبکہ وہ ناجائز طریقہ سے رشوت مانگنا ہوں؟
جواب:
   سودی رقم وصول کرنا گناہ ہے، اگر غلطی سے وصول کرلی، تو اب اس کو بطورِ رشوت استعمال کرکے دوسرے گناہ کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے، بلکہ حتی الامکان اپنے مالک تک پہنچانا چاہیے، ورنہ بلا نیتِ ثواب فقراء پر تقسیم کرنی چاہیے۔

حوالہ جات:
 1. تبيين الحقائق لزيلعي، كتاب الكراهية، فصل في البيع 6/ 27:
   ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه.
 2. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الكراهية، فصل في البيع 6/ 385.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:689
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16

image_pdfimage_printپرنٹ کریں