• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

قضا روزے اور نماز کی ادائیگی کا حکم:

سوال:
   ایک شخص کافی عرصہ سے بیمار تھا، بیماری کی وجہ سے جو نمازیں اور  روزے فوت ہوئے تھے، ان سب کا  فدیہ دے دیا، اُس کے بعد یہ شخص صحت یاب ہوگیا تو کیا اس پر قضا نمازوں اور روزوں کی ادائیگی لازم ہوگی یا نہیں؟
جواب:
   واضح رہے کہ مریض جب اپنی بیماری سے صحت یاب ہو جائے، اور اس کو اتنا وقت مل جائے کہ اس میں وہ قضا نمازوں اور روزوں کی ادائیگی کر سکتا ہو، تو اس پر قضاء نمازوں اور روزوں کی ادائیگی لازم ہوگی، اور جو فدیہ دیا ہے، وہ نفلی صدقہ شمار ہوگا، تاہم اگر اس شخص کا انتقال ہو جائے، تو روزوں کے لیے جو فدیہ دیا  گیا ہے، وہی کافی ہے، لیکن نمازوں کے لیے جو فدیہ دیا گیا ہے، وہ کافی نہیں ہے، وہ دوبارہ دیا جائے گا کیونکہ زندگی میں نمازوں کا فدیہ دینا درست نہیں۔ 

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت 2/ 646:
   وفي القنية: ولا فدية في الصلاة حالة الحياة، بخلاف الصوم.
2. الهندية للجنة العلماء، كتاب الصوم، الباب  الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار 1/ 207:
   ولو قدر على الصيام بعد ما فدى، بطل حكم الفداء الذي فداه حتى يجب عليه الصوم.
3. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصوم، فصل في العوارض 2/ 502:
   ولو قدر على الصوم يبطل حكم الفداء؛ لأن شرط الخلفية استمرار العجز في الصوم.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:684
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16

image_pdfimage_printپرنٹ کریں