• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

قرض پر سود لینے کاحکم:

سوال:
   عمرو نے بینک میں رقم جمع کرائی ہے، زید اس کو  کہتا ہے کہ یہ رقم مجھے دے دو، میں تم کو بینک سے ڈبل منافع دوں گا ، اور زید اس رقم سے اپنے لیے ویزہ خریدنا چاہتا ہے ،تو یہ معاملہ شرعا درست ہے؟
جواب:
   اگر ڈبل  منافع دینے سے مراد یہ ہو کہ اس رقم پر بینک کی طرف سے ماہانہ جتنا سود ملتا ہے،  میں اس کا دوگنا تمہیں دوں گا، تو جس طرح بینک سے سود لینا جائز نہیں ہے،  اسی طرح کسی دوسرے فرد سے بھی سود لینا ناجائز ہے، اور اگر اس کی مراد یہ ہو کہ میں اس رقم کو تجارت میں لگا کر سود کی بنسبت ڈبل منافع تمہیں دوں گا تو یہ جائز ہے۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب البيوع، باب الرابحة والتولية 5/ 166:
   (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة: وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به.
2. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب البيوع 6/ 29:
   وكل قرض جر منفعة لا يجوز، مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحا، أو يقرض قرضا على أن يبيع به بيعا؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:683
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16

 

image_pdfimage_printپرنٹ کریں