• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

روزے کے دوران بے ہوش ہونے کا حکم:

سوال:
   ہمارے پڑوس میں ایک باباجی رہتے ہیں، پچھلے جمعہ کو رمضان کا پہلا جمعہ تھا، وہ مسجد میں نماز فجر کے بعد بے ہوش ہوگئے اور عصر کی نماز تک بے ہوش ہی رہے، ہوش میں آنے پر بھی انہوں نے روزہ افطار نہیں کیا، بلکہ مغرب کے وقت تھوڑا سا پانی لیا، کیا ان کا روزہ برقرار تھا، اور اتنی دیر بے ہوشی سے روزہ نہیں ٹوٹتا؟
جواب:
    روزہ کی حالت میں صرف بے ہوشی کا آنا مفطرِ صوم (روزہ کو توڑنے والا) نہیں ہے، لہذا مذکورہ باباجی کے اس دن کا روزہ بالک درست تھا۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الصوم، فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم، 2/ 432:
   (وقضى أيام إغمائه، ولو) كان الإغماء (مستغرقا للشهر) لندرة امتداده (سوى يوم حدث الإغماء فيه، أو في ليلته) فلا يقضيه إلا إذا علم أنه لم ينوه.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الصوم 2/ 449:
   ولم يجعلوا العقل، والاقامة شرطين للصحة؛ لان من نوي الصوم من الليل، ثم جن في النهار أو أغمي عليه، يصح صومه في ذلك اليوم.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:663
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-16

image_pdfimage_printپرنٹ کریں