• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

:درخت کے پتوں یا ہڈی سے استنجا کرنا

سوال:
   ہری گھاس، درخت کے پتوں اور ہڈی کے ساتھ استنجا کرنا کیسا ہے؟
جواب:
   حیوان یا جنات کی خوراک سے استنجاء کرنے سے شرعا ممانعت آئی ہے، چونکہ گھاس اور درختوں کے پتے جانوروں کی خوراک ہے اور ہڈی میں جنات کے لیے خوراک ہے اس لیے ان کے ساتھ  استنجاء کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔ 

حوالہ جات:
1. مراقي الفلاح للشرنبلالی، كتاب الطهارة، فصل في ما يجوز به الاستنجاء إلخ 1/ 26:
   ويكره الاستنجاء بعظم وروث؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: “لا تستنجوا بالروث ولا بالعظام؛ فإنهما زاد إخوانكم من الجن” فإذا وجدوهما صار العظم كأن لم يؤكل، فيأكلونه، وصار الروث شعيرا وتبنا لدوابهم معجزة للنبي صلى الله عليه وسلم، والنهي يقتضي التحريم “وطعام لآدمي أو بهيمة” للإهانة والإسراف.
2. الدر المختار للحصكفي، كتاب الطهارة، فصل الاستنجاء 1/ 341:
(وكره) تحريما (بعظم وطعام وروث)…(وفحم وعلف حيوان)  .

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:610
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-12

image_pdfimage_printپرنٹ کریں