• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

@123حق شفعہ کے بدلے میں مال لینا

سوال:
اگر شفیع مشتری سے حق شفعہ کے عوض مال طلب کرکے اپنا حق شفعہ چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کر دے، تو شفیع کے لیے مشتری سے ایسی رقم لینا شرعا کیسا ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ حق شفعہ ایک ایسا حق ہے، جو شفیع کو اپنے آپ سے ضرر اور نقصان دور کرنے کے لیے اس کو دیا گیا ہے، اس حق کی خرید وفروخت جائز نہیں، لہذا مذکورہ صورت میں حقِ شفعہ کے عوض رقم وصول کرنا شرعا جائز نہیں، اس سے شفیع کا حق بھی ساقط ہو جاتا ہے اور اس کے لیے یہ رقم لینا جائز نہیں، اگر لی ہو تو واپس کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
لما في الهداية علي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب الشفعة، باب ما يبطل به الشفعة 4/ 321:
وإن صالح من شفعته على عوض بطلت شفعته ورد العوض لأن حق الشفعة ليس بحق متقرر في المحل، بل هو مجرد حق التملك فلا يصح الاعتياض عنه.
وفي الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الشفعة، باب ما يبطل الشفعة 6/ 241:
(و) يبطلها (صلحه منها على عوض) أي غير المشفوع لما يأتي (وعليه رده) لأنه رشوة. قال ابن عابدين تحت قوله: (ويبطلها صلحه منها على عوض إلخ) لأنها ليست بحق متقرر في المحل بل مجرد حق التملك فلا يصح الاعتياض عنه، ولا يتعلق إسقاطه بالجائز من الشروط فبالفاسد أولى فيبطل الشرط ويصح الإسقاط هداية.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الشفعة، الباب التاسع فيما يبطل به حق الشفعة بعد ثبوته وما لا يبطل، 5/ 184:
وإن صالح من شفعته على عوض بطلت الشفعة ورد العوض.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:597
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-10

image_pdfimage_printپرنٹ کریں