وقوفِ عرفہ سے پہلے جماع کرنے کا حکم
سوال:
حالتِ احرام میں کسی نے وقوف عرفہ سے پہلے جماع کرلیا، تو اس کے حج کا کیا حکم ہے؟
جواب:
وقوف عرفہ سے پہلے اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرنے سے حج فاسد ہوجاتا ہے، تاہم ایسا شخص حج کے تمام ارکان ادا کرے اور حج پورا کرکے دم دے يعنی حدود حرم میں ایک بکرا ذبح کرے، اور آئندہ سال اس حج کی قضا بھی کرے، اگر بیوی بھی اس کے ساتھ حالتِ احرام میں تھی، تو اس پر بھی یہ سب کچھ کرنا لازم ہوگا۔
حوالہ جات:
1. الهداية للمرغيناني، كتاب الحج، باب الجنايات 3/ 44:
وإن جامع في أحد السبيلين قبل الوقوف بعرفة فسد حجه، وعليه شاة.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب المناسك، الفصل الرابع في الجماع في الحج والعمرة1/ 244:
إذا كان مفردا بحجةِ، وجامع امرأته قبل وقوفه بعرفة، وهما محرمان، فسدت حجتهما إذا التقى الختانان، وغابت الحشفة، وعليهما المضي والإتمام على الفساد، وعلى كل واحد منهما الدم، وتجزئ الشاة في ذلك، وعليهما قضاء الحجة من قابل، ولا تجب عليهما العمرة ،كذا في شرح الطحاوي.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:582
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-09
All Categories
- اجارہ کے مسائل (24)
- اذان کے مسائل (20)
- اعتقادی مسائل (36)
- اعتکاف کے مسائل (18)
- امانت کے مسائل (16)
- پاکی ناپاکی کےمسائل (153)
- حج کے مسائل (33)
- حدود کے مسائل (19)
- حظر واباحت کے مسائل (102)
- خرید وفروخت کے مسائل (71)
- خلع کے مسائل (16)
- دعوی کے مسائل (19)
- ذبائح اور شکار کے مسائل (17)
- رضاعت کے مسائل (17)
- روزے مسائل (44)
- زکوٰۃ کے مسائل (87)
- ضمان کے مسائل (17)
- طلاق کے مسائل (76)
- عمرہ کے مسائل (17)
- قربانی کے مسائل (18)
- قرض کے مسائل (24)
- قسم اور منت کے مسائل (25)
- قمار اور ربوا کے مسائل (20)
- كتاب الكراهية (51)
- کفارہ کے مسائل (22)
- مشترک کاروبار کے مسائل (17)
- میراث اور وصیت کے مسائل (18)
- نان نفقہ کے مسائل (19)
- نکاح کے مسائل (82)
- نماز کے مسائل (154)
- ہبہ کے مسائل (20)
- وقف کے مسائل (29)
- وکالت کے مسائل (20)

