• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

موبائل کمپنی کا قرض بیلنس دیکر اس پر اضافی رقم وصول کرنا

سوال:
   بیلنس ختم ہونے پر کمپنی والے قرض کچھ بیلنس دیتے ہیں اور جب موبائل میں بیلنس ڈالا جاتا ہے، تو کمپنی والے قرض کا بیلنس بمع ٹیکس کاٹتے ہیں، کیا یہ ٹیکس سود کے زمرے میں اتی ہے یا نہیں؟
جواب:
   مذکورہ صورت در حقیقت لون کی نہیں بلکہ اجارہ کی ایک صورت ہے یعنی منفعت دے کر بعد میں اس کی اجرت وصول کی جاتی ہے اگرچہ وہ اس اجرت سے زیادہ ہوتی ہے جو ایڈوانس رقم دینے کی صورت میں وصول کی جاتی ہے لیکن اس طرح کرنا ان کے لیے جائز ہے گویا کہ ایڈوانس کی صورت میں وہ اجرت کم وصول کرتے ہیں اور بعد میں ادائیگی کی صورت میں  زیادہ وصول کرتے ہیں اور شرعا یہ جائز ہے۔

حوالہ جات:
1. الھدایة لعلي بن أبي بكر المرغيناني، كتاب البيوع، باب الإجارات  3/ 230:
   الإجارة عقد على المنافع بعوض، ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة، والأجرة معلومة وما جاز أن يكون ثمنا في البيع، جاز أن يكون أجرة في الإجارة.
2. العناية لمحمد بن محمد البابرتي،كتاب البيوع، كتاب الإجارة  9/ 58:
   ولا تصح الإجارة حتى تكون المنافع معلومة، والأجرة معلومة؛ لما روينا

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:519
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-03

image_pdfimage_printپرنٹ کریں