: زیر ناف بال كاٹنے سے عاجز كا حكم
سوال:
فالج کے بیمار کے لیے اس کا بیٹا یا نواسہ اس کے زیر ناف بال كاٹ سکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
اگر کوئی شخص اس قدر بیمار ہو کہ بیماری کی وجہ سے اپنے زیر ناف بال خود صاف نہ کر سکتا ہو اور بیوی بھی زندہ نہ ہو تو کوئی بھی مرد اپنے ہاتھوں پر دستانے چڑھا کر شرمگاہ کو دیکھیے بغیر زیر ناف بال صاف کرسکتا ہے۔
حوالہ جات:
1. البحر الرائق لزين الدين ابن نجيم، كتاب الكراهية، باب خصي البهائم 8/ 233:
وفي جامع الجوامع حلق العانة بيده، وإن حلق الحجام جاز إذا غض بصره.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الكراهية، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء 5/ 358:
في جامع الجوامع حلق عانته بيده، وحلق الحجام جائز إن غض بصره، كذا في التتارخانية.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:488
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-02
All Categories
- اجارہ کے مسائل (24)
- اذان کے مسائل (20)
- اعتقادی مسائل (36)
- اعتکاف کے مسائل (18)
- امانت کے مسائل (16)
- پاکی ناپاکی کےمسائل (153)
- حج کے مسائل (33)
- حدود کے مسائل (19)
- حظر واباحت کے مسائل (102)
- خرید وفروخت کے مسائل (71)
- خلع کے مسائل (16)
- دعوی کے مسائل (19)
- ذبائح اور شکار کے مسائل (17)
- رضاعت کے مسائل (17)
- روزے مسائل (44)
- زکوٰۃ کے مسائل (87)
- ضمان کے مسائل (17)
- طلاق کے مسائل (76)
- عمرہ کے مسائل (17)
- قربانی کے مسائل (18)
- قرض کے مسائل (24)
- قسم اور منت کے مسائل (25)
- قمار اور ربوا کے مسائل (20)
- كتاب الكراهية (51)
- کفارہ کے مسائل (22)
- مشترک کاروبار کے مسائل (17)
- میراث اور وصیت کے مسائل (18)
- نان نفقہ کے مسائل (19)
- نکاح کے مسائل (82)
- نماز کے مسائل (154)
- ہبہ کے مسائل (20)
- وقف کے مسائل (29)
- وکالت کے مسائل (20)

