• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

رضاعی ماں کے دوسرے شوہر سے پیدا ہونے والی بیٹی سے نکاح کرنا:

سوال:
   زید نے اپنی پھوپھی کا دودھ پیا ہے، پھر پھوپھا وفات پاگیا، اور پھوپھی نے دوسری جگہ شادی کرلی، اب دوسرے شوہر سے بیٹی پیدا ہوئی، تو زید کا نکاح اس کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
   زید نے چونکہ اپنی پھوپھی کا دودھ پیا ہے، تو یہ پھوپھی زید کی رضاعی ماں بن گئی ہے، اور اس کی تمام اولاد خواہ ان کی پیدائش زید کے دودھ پینے سے پہلے ہوئی ہو یا بعد میں موجودہ شوہر ہوں یا پہلے شوہر سے، وہ تمام زید کے رضاعی  بہن بھائی بن چکے ہیں، جن کا زید کے ساتھ محرمیت کا رشتہ قائم ہوچکا ہے، لہذا زید کا اپنی رضاعی ماں کی کسی بھی بیٹی کی ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات:
1. قال الله تعالى:
   وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ. النساء 4/ 23:
2. سنن النسائي،كتاب النكاح، باب مايحرم من الرضاع، الرقم: 5436:
   عن عمرة، قالت سمعت عائشة ر ضى الله عنها تقول: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة.
3. الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح، باب الرضاع   4/ 398:
   (ولا حل بين رضيعي امرأة) لكونهما أخوين، وإن اختلف الزمن والأب، (ولا) حل (بين الرضيعة، وولد مرضعتها) أي: التي أرضعتها (وولد ولدها)؛ لأنه ولد الأخ.
4. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب النكاح، باب المحرمات من الرضاع  3  /244:
   (ولا حل بين رضيعي ثدي) أي: بين من اجتمعا على الارتضاع من ثدي واحد في وقت واحد؛ لأنهما أخوان من الرضاع، فإن كان اللبن من زوجين، فهما أخوان لأم أو أختان لأم، وإن كان لرجل فأخوان لأب وأم، أو أختان لهما.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:504
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-02-01

image_pdfimage_printپرنٹ کریں