• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

مستحق زکوٰۃ فاسق شخص کو زکوٰۃ دینا کیسا ہے؟:

سوال:
   جو آدمی فسق وفجور میں مبتلا ہو اور غریب ہو، اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
   زكوٰۃ کسی مستحق کو دینا ضروری ہے، چاہے دیندار یا نہ ہو، البتہ دیندار کو دینا بہتر ہے، تاہم جو مستحق زکوٰۃ فسق وفجور میں مبتلا ہو، اور اس کے بارے میں اندیشہ ہو کہ وہ زکوٰۃ کی رقم کسی گناہ کے کام  میں خرچ کرے گا، تو اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں کیونکہ یہ اس کے ساتھ گناہ کے کام میں تعاون ہے، البتہ اگر وہ اچھی طرح اطمینان دلادے کہ وہ اس کو غلط کاموں میں خرچ نہیں کرے گا، تو دینے میں مضائقہ نہیں، زکوۃ ادا ہوجائے گی۔

حوالہ جات:
1. قال الله تعالى:
    وتَعَاوَنُوا عَلَی البِرِّ وَالتَّقْوى وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ. المائدة2/5:
2. الجوهرة النيرة لابي بكر بن علي الزبيدي، كتاب الزكاة، باب المصارف1/ 131:
  (ولا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا من أي مال كان) … (ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من ذلك، وإن كان صحيحا مكتسبا)؛ لأنه فقير إلا أنه يحرم عليه السؤال.
3. تبيين الحقائق لعثمان بن علي الزيلعي، كتاب الزكاة 2/ 301:
والتصدق على الفقير العالم، أفضل من التصدق على الجاهل.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:500
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-31

image_pdfimage_printپرنٹ کریں