• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

@123ولدالزنا کےنسب اورمیراث کامسئلہ

سوال:
ایک شخص نے ناجائز طریقہ سے ایک عورت سے بدفعلی کی اور حمل ٹھر گیا پھر اس عورت سے نکاح کرلیا، اس صورت میں یہ بچہ حلالی ہوگا یا حرامی، اور شخص مذکور کی جائیداد میں اس کو حصہ ملے گا یا نہیں؟
جواب:
اگر یہ بچہ چھ ماہ یا اس سے زائد مدت کے بعد پیدا ہوا ہو، تو اس بچے کا نسب اس شخص سے ثابت ہوگا، اور شخص مذکورکے جائیداد میں اس کو حصہ بھی ملے گا، لیکن اگر نکاح کے بعد چھ مہینے سے کم مدت میں بچہ پیدا ہوا ہو، تو اس صورت میں بچے کا نسب اس شخص سے ثابت نہیں ہوگا، اور شخص مذکور کی جائیداد میں اس کو حصہ بھی نہیں ملےگا، البتہ اگر یہ شخص خود یہ دعوی کرے کہ یہ بچہ میرا ہی ہے، تو اس صورت میں بچے کا نسب اس سے ثابت ہو جائے گا، اور یہ نہ کہے کہ یہ بچہ مجھ سے بطور زنا پیدا ہوا ہے، تو ایسی صورت میں اس بچہ کا نسب اس سے ثابت ہوگا، اور وراثت میں حصہ بھی ملے گا۔

حوالہ جات:
لما في الفتاوى الهندية لجنة علماء، كتاب الطلاق، الباب الخامس عشر في ثبوت النسب 1/ 540:
ولو زنى بامرأة فحملت، ثم تزوجها فولدت إن جاءت به لستة أشهر، فصاعدا، ثبت نسبه، وإن جاءت به لأقل من ستة أشهر، لم يثبت نسبه، إلا أن يدعيه، ولم يقل: إنه من الزنا، أما إن قال: إنه مني من الزنا، فلا يثبت نسبه، ولا يرث منه.
وفي الجوهرة النيرة لأبو بكر بن علي الحدادي،كتاب العدد، العدة في النكاح الفاسد 2/ 82:
ولو زنى بامرأة، فحبلت، ثم تزوجها، فولدت، إن جاءت به لستة أشهر، فصاعدا ثبت نسبه، وإن جاءت به لأقل، لم يثبت إلا أن يدعيه، ولم يقل إنه من الزنا، أما إذا قال هو ابني من الزنا، لا يثبت نسبه، ولا يرث منه.
وفي المحيط البرهاني لابن مازة الحنفي، كتاب النكاح، الفصل السابع عشر في ثبوت النسب /125:
رجل زنى بامرأة، فحملت منه، فلما استبان حملها، تزوجها الذي زنى بها، فالنكاح جائز، فإن جاءت بالولد بعد النكاح لستة أشهر، فصاعداً يثبت النسب منه، وترث منه، لأنها جاءت به في مدة حمل، بأنه عقيب نكاح صحيح، فإن جاءت به لأقل من ستة أشهر، لا يثبت النسب، ولا ترث منه، إلا أن يقول: هذا الولد مني، ولم يقل من الزنى.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:427
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-26

image_pdfimage_printپرنٹ کریں