• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

حالتِ احرام میں خطمی سےسردھونے کاحکم

سوال:
   اگر حالتِ احرام میں خطمی سے سر دھویا جائے، تو امام صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک دم لازم ہوتا ہے، اور صاحبین رحمھما اللہ کے نزدیک دم لازم نہیں ہوتا، تومفتی بہ قول کونسا ہے؟
جواب:
   اس سلسلہ میں امام  ابوحنیفہ ؒ  کا قول مفتی بہ اور راجح ہے، لہذا حالتِ احرام میں خطمی (جو کہ ایک گھاس کا نام ہے) سے سر دھونے والے پر دم لازم ہوگا۔ تاہم بعض علماء کے نزدیک یہ اختلاف لفظی ہے یعنی امام کے نزدیک وجوب دم خطمی عراقی میں ہے جو خوشبودار ہوتا ہے اور صاحبین کے نزدیک دم کا عدم وجوب خطمی شامی میں جس کی خوشبونہیں ہوتی، اگر معاملہ اس طرح ہو تو پر پھر کسی ایک قول کو ترجیح دینے کی ضرورت نہیں بلکہ خوشبودار میں بالاتفاق دم واجب ہے اور غیر خوشبودار میں بالاتفاق دم واجب نہیں۔

حوالہ جات:
1.  فتح القدير لابن الهمام، كتاب الحج، باب الإحرام 2/ 490:
   وفي المحيط: أبيح له التحلل، فغسل رأسه بالخطمي، أو قلم ظفره قبل الحلق، عليه دم ؛ لأن الإحرام باق ؛ لأنه لا تحلل إلا بالحلق، فقد جنى عليه بالطيب.
2. الفتاوي الهندية للجنة العلماء، كتاب المناسك، الباب الثامن في الجنايات، الفصل الأول فيما يجب بالتطيب والتدهن 1/ 241:
   ولا يغسل رأسه ولحيته بالخطمي، فإن غسل فعليه دم.
3. غنية الناسك لمحمد حسن بن مكرم شاه المهاجر المكي،باب الجنايات، ص:389:
   ولو غسل رأسه بالخطمي فعليه دم عند أبي حنيفة ؒ،وقالاؒ:صدقة. قيل: جواب أبي حنيفة في خطمي العراقي، وله رائحة طيبة، وإن لم تكن زكية،لوجبه دم، وجوابهما في خطمي الشامي ولا رائحة له فلا خلاف في خطمي العراقي، ويجب الدم فيه بالاتفاق.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:421
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-25

image_pdfimage_printپرنٹ کریں