• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

ویران موقوفہ زمین کو بیچ کر اس کی قیمت دوسری مسجد میں خرچ کرنا:

سوال:
   ایک شخص نے زمین مسجد کے لیے وقف کر دی ہے جو ابھی تک ویران پڑی ہے، اس زمین کو دوسری جامع مسجد کی توسیع کے لیے فروخت کیا جاسکتا ہے یا نہیں، جبکہ واقف بھی اس پر راضی ہو؟
جواب:
   مالکِ زمین نے جب یہ زمین مسجد کے لیے وقف کر دی، تو یہ زمین مالک کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی گئی، اب اس کو فروخت کرنا یا اس میں کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر وہ زمین ایسی ویران جگہ پر ہو کہ فی الحال یا آئندہ اس پر مسجد بنانا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کو بیچ کر اس کی قیمت سے دوسری جگہ زمین خریدی جائے اور اس پر مسجد بنائی جائے۔ 

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الوقف، الباب الأول في تعريفه وركنه وسببه وحكمه وشرائطه إلخ 2/ 454 :
   وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم، ولا يباع، ولا يوهب، ولا يورث، كذا في الهداية، وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما.
2. وفي رد المحتار، کتاب الوقف مطلب في استبدال الوقف وشروطه 386/4:
   لو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها، والمعتمد أنه بلا شرط يجوز للقاضي (استبداله)بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية، وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به، وأن لا يكون البيع بغبن فاحش، وشرط في الإسعاف أن يكون المستبدل قاضي الجنة المفسر بذي العلم والعمل؛ لئلا يحصل التطرق إلى إبطال أوقاف المسلمين كما هو الغالب في زماننا.

 

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:396
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-19

image_pdfimage_printپرنٹ کریں