• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

میاں بیوی کا ایک دوسرے کو بہن، بھائی یا ماں، باپ کہنا:

سوال:
   شوہر بیوی کو رات بھر ماں، بہن کہتا رہا، اور بیوی شوہر کو باپ، بھائی کہتی رہی، تو کیا اس سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
جواب:
   مذكوره صورت ميں شوہر کا اپنی بیوی کو ماں، بہن کہنا اور بیوی کا اپنے شوہر کو باپ، بھائی کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ مياں بيوی کا ایک دوسرے کے لیے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنا مکروہ ہے، آئندہ کے لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، باب الظهار 3/ 470:
   وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا، وينبغي أن يكون مكروها، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته: يا أخية، مكروه.
2. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الطلاق، باب الظهار4/ 107:
   قال: أنت أمي لا يكون مظاهرا، لكنه مكروه؛ لقربه من التشبيه.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:373
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18

image_pdfimage_printپرنٹ کریں