• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

سحر کے بدلے کسی پر سحر کرنا کیسا ہے؟:

سوال:
   دو آدمیوں نے ایک شخص پر سحر کرا دیا، وہ شخص فوت ہوگیا، لیکن عامل کہتا ہے کہ ان سحر کرنے والوں پر سحر کرنا خلافِ شرع ہے تو کیا عامل کا یہ کہنا درست ہے؟
جواب:
   کسی پر سحر وجادو کرنا یا کرانا شرعاً حرام اور ناجائز ہے، اس لیے عامل کی مذکورہ بات درست ہے، البتہ اگر مضبوط قرائن سے یہ بات ثابت ہوجائے کہ فلاں جادو گر کے جادو کی وجہ سے فلاں شخص مرچکا ہے تو حکومت وقت اس کی تحقیق کرکے اس پر کوئی بھی مناسب سزا تجویز کرسکتی ہے۔ 

حوالہ جات:
1. صحیح البخاري، كتاب الطب، باب الشرك والسحر من الموبقات، الرقم: 5764:
   عن أبي هريرة، رضي الله عنه ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اجتنبوا الموبقات: الشرك بالله والسحر.
2. الدرالمختار، باب المرتد، مطلب في الساحروالزنديق 6/382:
   ساحر يسحر وهو جاحد لا يستتاب منه، ويقتل إذا ثبت سحره دفعا للضرر عن الناس، وساحر يسحر تجربة ولا يعتقد به لا يكفر. قال أبوحنيفة: الساحر إذا أقر بسحره أو ثبت بالبينة يقتل، ولا يستتاب منه والمسلم والذمي والحر  والعبد فيه سواء.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:385
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18

image_pdfimage_printپرنٹ کریں