• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

جانوروں کی خرید وفروخت کے لیے کسی کو پیسے دینا:

سوال:
   میں ایک سرکاری ملازم ہوں، میں کاروبار کرنا چاہتا ہوں، تو میرے ایک ساتھی نے مجھ سے کہا کہ تم مجھے پیسے دے دو، میں اس سے گائے خرید لوں گا اور اس کو کچھ دن پالنے کے بعد بیچ دوں گا، جو منافع ملے گا، ہم دونوں اس میں برابر کے شریک ہوں گے، اور باقی پیسے میرے پاس ہوں گے، جس سے میں اور جانور خریدوں گا، تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟
جواب:
   مذکورہ معاملہ شرعا درست ہے، فقہی اصطلاح میں اس کو “عقدِ مضاربت” کہتے ہیں۔

حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب المضاربة، الباب الأول في تفسيرها وركنها وشرائطها وحكمها 4/ 285:
   أما تفسيرها شرعا فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين، والعمل من الجانب الآخر …(وأما ركنها) فالإيجاب والقبول وذلك بألفاظ تدل عليها من لفظ المضاربة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:377
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-18

image_pdfimage_printپرنٹ کریں