• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

مجلس نکاح میں لڑکی کے وکیل سے ایجاب کرائے بغیر لڑکے سے قبول کروانا:

سوال:
   ایک لڑکے اور لڑکی کا نکاح ہو رہا تھا، مولوی صاحب نے گواہوں اور اس لڑکی کے بھائی کو لڑکی سے اجازت لینے کے لیے بھیجا، جب لڑکی سے اجازت لے کر واپس آئے، تو مولوی صاحب نے صرف لڑکے سے قبول کرالیا اور وکیل یعنی لڑکی کے بھائی سے کچھ بھی نہیں پوچھا اور نہ ایجاب کرایا، تو یہ نکاح منعقد ہوا ہے یا نہیں؟
جواب:
   واضح رہے کہ ایجاب وقبول نکاح کا رکن ہے، ان کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا، چنانچہ اگر لڑکا لڑکی مجلس میں خود موجود ہوں تو ان سے ایجاب وقبول کرانا چاہیے اور اگر لڑکی کی طرف سے کوئی وکیل مقرر ہو تو اس سے ایجاب کرانا چاہیے یا خطیب اس سے اختیار لے کر خود ایجاب کرے اور لڑکے سے قبول کروائے، لہٰذا مذکورہ صورت میں اگر مولوی صاحب نے لڑکی کے وکیل سے نہ ایجاب کرایا تھا اور نہ اس سے اختیار لیا تھا بلکہ صرف لڑکے سے قبول کروایا تھا، تو اس طریقہ سے کیا ہوا نکاح درست نہیں، دوبارہ باندھنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب النكاح 3/ 9 :
   (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي)؛ لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك (و) يقول الآخر (تزوجت).
2. تبيين الحقائق للزيلعي، كتاب النكاح، شروط النكاح وأركانه 2/ 96 :
   (وينعقد بإيجاب وقبول وضعا للماضي أو أحدهما) أي ينعقد النكاح بالإيجاب والقبول بلفظين وضعا للماضي، أو وضع أحدهما للماضي، والآخر للمستقبل؛ لأن النكاح عقد، فينعقد بهما كسائر العقود.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:335
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-13

image_pdfimage_printپرنٹ کریں