• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

مرض الموت میں وارث کو کوئی چیز ہبہ کرنا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے مرض الوفات میں اپنے بعض ورثاء کو کچھ زمین ہبہ کر دی، اس مرض میں زید وفات پاگیا، تو کیا زید کا مرض الوفات میں بعض ورثاء کو ہبہ کرنا درست ہے؟
جواب:
  مرضِ وفات میں ہبہ وصیت کے حکم میں ہوتا ہے، اور وارث کے حق میں وصیت درست اور قابل عمل نہیں، لہذا ذکر کردہ صورت میں زید کا بعض ورثاء کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں، البتہ اگر اس پر تمام ورثاء رضامندی ظاہر کریں اور سب بالغ ہوں، تو یہ وصیت نافذ ہوگی۔

حوالہ جات:
1. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة 5/ 700:
   وهب في مرضه، ولم يسلم حتى مات، بطلت الهبة؛ لأنه وإن كان وصية حتى اعتبر فيه الثلث فهو هبة حقيقة، فيحتاج إلى القبض.
2. فتاوى قاضيخان لحسن بن منصور الأوزجندي، فصل في مسائل مختلفة 3/ 312:
   و لو وهب شيئا لوارثه في مرضه، أو أوصى له بشيء، و أمر بتنفيذه قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل رحمه الله تعالى: كلاهما باطلان، فإن أجاز بقية الورثة ما فعل، و قالوا أجزنا ما أمر به الميت، تنصرف الإجازة إلى الوصية؛ لأنها مأمورة، لا إلى الهبة.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:316
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-12

image_pdfimage_printپرنٹ کریں