• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

@123عورتوں کا اسٹیڈیم میں کرکٹ دیکھنےکے لیے جانا

سوال:
 لڑکیاں نقاب پہن کر اسٹیڈیم میں کرکٹ میچ دیکھ سکتی ہے؟
جواب:
عام طور پر اسٹیڈیم میں بے شمار قسم کے مفاسد پائے جاتے ہیں، مثلا نامحرم مرد اور عورت کا اختلاط، بے پردگی، وقت اور پیسوں کا ضیاع، نمازوں کا چھوڑنا، موسیقی وغیرہ کا سننا، لہذا ان مفاسد اور قباحتوں کی بناء پر اسٹیڈیم جاکر میچ دیکھنا جائز نہیں ہے، تاہم اگر کسی جگہ ان کے لیے با پردہ اور محفوظ انتظام کیا گیا ہو، تو گنجائش ہے۔

حوالہ جات:
لما في قوله تعالى: (الأحزاب 33/33).
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى الآية.
وفي سنن ابن ماجه، باب كف اللسان في الفتنة، الرقم: 3976:
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه.
وفي صحيح المسلم، باب الرخصة في اللعب إلخ، الرقم:892:
قالت عائشة: والله لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوم على باب حجرتي، والحبشة يلعبون بحرابهم، في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم، يسترني بردائه، لكي أنظر إلى لعبهم، ثم يقوم من أجلي، حتى أكون أنا التي أنصرف، فاقدروا قدر الجارية الحديثة السن، حريصة على اللهو.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:309
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-11

image_pdfimage_printپرنٹ کریں