• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

مسجد کے باتھ رومز کسی عیسائی کو ٹھیکہ پر دینا:

سوال:
   کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بازار میں 3 منزلہ مسجد ہے، اس کی دوسری منزل میں سبیل اور وضو خانوں کے ساتھ باتھ رومز ہیں، بازار کے لوگ ان کو کثرت سے استعمال کرتے ہیں، جس سے مسجد میں گندگی اور بدبو پھیلتی ہے، انتظامیہ والے بھی تھک گئے، اب انتظامیہ والوں نے یہ مشورہ کیا ہے کہ یہ باتھ رومز کسی عیسائی کو ٹھیکہ پر دے دیے جائیں، اور وہ اس کے عوض میں سبیل، باتھ رومز اور استنجا خانوں کی صفائی کا کام کریں؟ اب پوچھنا یہ کہ مسجد کے انتظامیہ کا ان باتھ روموں کو ٹھیکے پر دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور غیر مسلم عیسائی وغیرہ کا مسجد کے وضو خانہ میں آنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جائز اور ناجائز، افضلیت اور غیر افضلیت۔
جواب:
   مذکورہ معاملہ شرعا درست نہیں کیونکہ اس کا جو معاوضہ مقرر کیا گیا ہے کہ اس کے بدلے وہ عیسائی وضوخانہ وغیرہ کی صفائی کرے گا یہ اجرت مجہول ہے، لہذا اس کی درست صورت یہ ہے کہ مسجد کے باتھ رومز اس کو متعین اجرت پر دیے جائیں اور وہ رقم مسجد کے فنڈ میں جمع کی جائے، باقی مسجد کے وضو خانہ وغیرہ کی صفائی کے لیے کسی مسلمان کو رکھا جائے تو زیادہ مناسب ہے کیونکہ کسی غیر مسلم کا مسجد کی حدود میں داخل ہونا احتیاط کے خلاف ہے۔  

حوالہ جات:
1. الهداية للمرغيناني، كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة 3/ 238:
   قال: ويجوز أخذ أجرة الحمام والحجام، أما الحمام فلتعارف الناس ولم تعتبر الجهالة لإجماع المسلمين. قال عليه الصلاة والسلام: ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن.
2. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الوقف، فصل في أحكام المسجد 2/ 461:
   وللمتولي أن يستأجر من يخدم المسجد، يكنسه، ونحو ذلك بأجر مثله أو زيادة يتغابن فيها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:298
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-10

image_pdfimage_printپرنٹ کریں