کیا استطاعت سے پہلے حج ادا کرنے والے پر مالدار ہونے کے بعد دوبارہ حج فرض ہوتا ہے ؟
سوال:
زید نے اپنے باپ کے مال سے باپ کی موجودگی میں حج کیا، والد کے انتقال کے بعد زید کے پاس اتنا مال آگیا، جس سے حجِ کے اخراجات پورے ہوسکتے ہیں، تو کیا زید پر دوبارہ حج کرنا لازم ہوگا؟
جواب:
اگر مذکورہ شخص نے صرف نفلی حج کی نیت سے حج ادا کیا تھا تو استطاعت کے بعد اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہے، لیکن اگر مطلق حج کی نیت سے ادا کیا تھا تو دوبارہ حج کرنا فرض نہیں۔
حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب المناسك 1/ 217:
الفقير إذا حج ماشيا، ثم أيسر لا حج عليه، هكذا في فتاوى قاضيخان.
2. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الحج 2/ 460:
وليفيد أنه يتعين عليه أن لا ينوي نفلا على زعم أنه لا يجب عليه لفقره …فلو نواه نفلا لزمه الحج ثانيا. اهـ .
3. مجمع الأنهر لداماد آفندي، كتاب المناسك 1/ 260:
ولو حج الفقير، ثم استغنى لم يحج ثانيا؛ لأن شرط الوجوب التمكن من الوصول إلى موضع الأداء ألا ترى أن المال لا يشترط في حق المكي، وفي النوادر أنه يحج ثانيا.
واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی
فتوی نمبر:294
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2024-01-09
All Categories
- اجارہ کے مسائل (24)
- اذان کے مسائل (20)
- اعتقادی مسائل (36)
- اعتکاف کے مسائل (18)
- امانت کے مسائل (16)
- پاکی ناپاکی کےمسائل (153)
- حج کے مسائل (33)
- حدود کے مسائل (19)
- حظر واباحت کے مسائل (102)
- خرید وفروخت کے مسائل (71)
- خلع کے مسائل (16)
- دعوی کے مسائل (19)
- ذبائح اور شکار کے مسائل (17)
- رضاعت کے مسائل (17)
- روزے مسائل (44)
- زکوٰۃ کے مسائل (87)
- ضمان کے مسائل (17)
- طلاق کے مسائل (76)
- عمرہ کے مسائل (17)
- قربانی کے مسائل (18)
- قرض کے مسائل (24)
- قسم اور منت کے مسائل (25)
- قمار اور ربوا کے مسائل (20)
- كتاب الكراهية (51)
- کفارہ کے مسائل (22)
- مشترک کاروبار کے مسائل (17)
- میراث اور وصیت کے مسائل (18)
- نان نفقہ کے مسائل (19)
- نکاح کے مسائل (82)
- نماز کے مسائل (154)
- ہبہ کے مسائل (20)
- وقف کے مسائل (29)
- وکالت کے مسائل (20)

