• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

ٹی وی یا آلاتِ معصیت کی خرید وفروخت کا حکم:

سوال:
ٹی وی وغیرہ کی خرید وفروخت کرنا کیسا ہے؟
جواب:
   واضح رہے کہ ٹی وی فی نفسہ آلہ لہو ولعب نہیں، بلکہ اسے اصلاحی، تعلیمی، تربیتی، اور سائنسی معلومات کے لیے بھی استعمال کیا جا سكتا ہے، اور فقہاء نے ہر اس چیز کی خرید وفروخت کو جائز قرار دیا ہے، جس میں جائز استعمال کا پہلو موجود هو، لہٰذا ٹی وی کی خرید وفروخت جائز ہے، لیکن چونکہ اس کا استعمال اکثر خرافات اور ناجائز چیزوں میں ہوتا ہے، اس لیے اس کی خرید وفروخت  کراہت سے خالی نہیں، لہٰذا اس قسم کے کاروبار سے بچنے میں احتیاط ہے۔

حوالہ جات:
1. بدائع الصنائع للكاساني، كتاب البيوع، فصل الشرائط التي يرجع إلى المعقود عليه 5/ 144:
   ويجوز بيع آلات الملاهي من البربط، والطبل، والمزمار، والدف، ونحو ذلك عند أبي حنيفة، لكنه يكره، وعند أبي يوسف، ومحمد: لا ينعقد بيع هذه الأشياء؛ لأنها آلات معدة للتلهي بها موضوعة للفسق، والفساد فلا تكون أموالا فلا يجوز بيعها، ولأبي حنيفة – رحمه الله – أنه يمكن الانتفاع بها شرعا من جهة أخرى.
2. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الكراهية، فصل في البيع 6/ 391:
   وعلم من هذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية، والكبش النطوح، والحمامة الطيارة، والعصير، والخشب ممن يتخذ منه المعازف.
3. البحر الرائق لابن نجيم، كتاب البيوع 8/ 142:
   (وصح بيع هذه الأشياء) وهذا قول الإمام، وقالا: لا يجوز بيع هذه الأشياء؛ لأنها ليست بمال متقوم، وجواز البيع ووجوب الضمان مبنيان على المالية.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:265
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-30

 

image_pdfimage_printپرنٹ کریں