• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

پہلی بیوی کی حیات میں دوسری شادی کرنے پر طلاق کو معلق کرنا:

سوال:
   زید نے کہا ”پہلی بیوی کی حیات میں دوسری شادی کروں تو اس دوسری بیوی کو تین طلاق” اب پہلی بیوی کو طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کر لیا، تو اس پر طلاقِ ثلاثہ واقع ہوگی یا نہیں؟
جواب:
   مذکورہ صورت میں چونکہ عرف میں ان الفاظ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب تک یہ بیوی زندہ ہے میں دوسری شادی نہیں کروں گا، لہٰذا مذکورہ شخص نے اگر پہلی بیوی کی حیات میں دوسری شادی کرلی، تو اس دوسری بیوی پر تین طلاق واقع ہو جائی گی، اگرچہ پہلی بیوی کو طلاق دے چکا ہو۔ 

حوالہ جات:
1. البحر الرائق، كتاب الطلاق 4/ 323:
   وفي الحاوي الحصيري والمعتبر في الأيمان الألفاظ دون الأغراض.
2. رد المحتار لابن عابدين، كتاب الأيمان 3/ 845:
   وعلى هذا لو قال لامرأته: كل امرأة أتزوجها بغير إذنك فطالق، فطلق امرأته طلاقا بائنا أو ثلاثا، ثم تزوج بغير إذنها طلقت لأنه لم تتقيد يمينه ببقاء النكاح لأنها إنما تتقيد به لو كانت المرأة تستفيد ولاية الإذن والمنع بعقد النكاح.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:258
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-30

image_pdfimage_printپرنٹ کریں