• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

کوئی چیزہبہ کرکے اس سے رجوع کرنا:

سوال:
   زید کمزور ہے اور اس کی نارینہ اولاد نہیں ہے، اس لیے زید نے اپنے بھتیجے کے نام زمین ہبہ کردی، اس امید پر کہ بھتیجا میری خدمت کرے گا،  اب بھتیجا خدمت نہیں کرتا تو زید اپنا ہبہ واپس لے سکتا ہے یا نہیں؟
جواب:
   اگر زید نے بھتیجے کو زمین ہبہ کرکے مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ بھی دیا ہو، تو یہ زمین بھتیجے کی ملکیت بن چکی ہے اورچونکہ بھتیجا ذی رحم محرم رشتہ دار ہے، اس لیے ہبہ شدہ زمین اب اس سے واپس لینا درست نہیں ہے، لیکن اگر مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ نہ دیا ہو، صرف زبانی کلامی بات ہوئی ہو، تو اس کے لیے اس معاملہ سے رجوع کرنا درست ہے۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي، كتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة 5/ 704:
   (فلو وهب لذي رحم محرم منه) نسبا (ولو ذميا أو مستأمنا لا يرجع) ”شمني“ (ولو وهب لمحرم بلا رحم كأخيه رضاعا) ولو ابن عمه (ولمحرم بالمصاهرة كأمهات النساء والربائب وأخاه وهو عبد لأجنبي أو لعبد أخيه رجع ولو كانا) أي العبد ومولاه (ذا رحم محرم من الواهب فلا رجوع فيها اتفاقا على الأصح)
لأن الهبة لأيهما وقعت تمنع الرجوع ”بحر“.
2. فتح القدير لابن همام، كتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة 9/ 44:
   قال: (وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها) لقوله  عليه الصلاة والسلام: «إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:241
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26

image_pdfimage_printپرنٹ کریں