• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

@123مسجد کے چندہ کی رقم تجارت میں لگانا

سوال:
مسجد کے چندہ کی رقم سے تجارت کرنا کیسا ہے؟
جواب:
چونکہ کاروبار کے ساتھ نفع ونقصان دونوں جڑے ہوتے ہیں اور نقصان کی صورت میں مسجد کے مالِ وقف کے ضائع ہونے کا قوی اندیشہ ہے، اس لیے مسجد کے مال سے کاروبار وغیرہ کرنا جائز نہیں، البتہ اگر کسی نے مسجد کو چندہ دے کر یہ کہدیا کہ اس کو مناسب کاروبار میں لگایا جائے کہ اس سے مسجد کی ضروریات پوری کی جاسکیں، تو ایسی صورت میں اس کو مناسب کاروبارمیں صرف کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات:
لما في رد المحتار لابن عابدين، كتاب الإيداع 8/ 337:
وفي الخلاصة: والوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن.
وفي الفتاوى الهندية للجنة العلماء، كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق به، الفصل الثاني في الوقف وتصرف القيم 2/ 463:
أهل المسجد لو باعوا غلة المسجد أو نقض المسجد بغير إذن القاضي الأصح أنه لا يجوز، كذا في السراجية.
وفي البحر الرائق لابن نجيم، كتاب الوقف، تصرفات الناظر في الوقف 5/ 259:
ولا يجوز للقيم شراء شيء من مال المسجد لنفسه ولا البيع له وإن كان فيه منفعة ظاهرة للمسجد.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:245
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26

image_pdfimage_printپرنٹ کریں