• muftisaniihsan@google.com
  • 03118160190

ماں کے کروٹ کے نیچے بچے کا دب کر مرنے کاحکم:

سوال:
   اگر نیند کی حالت میں غلطی سے بچی ماں کے پہلو کے نیچے آکر مرگئی، تو ماں کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب:
  اگر نیند کی حالت میں غلطی سے بچی ماں کے پہلو کے نیچے آکر مرجائے تو یہ قتلِ خطاء کے حکم میں ہے، جس کی وجہ سے اس عورت پر دیت لازم ہوگی، البتہ اگر ورثائے مقتول اس کو معاف کردیں، تو دیت معاف ہوجائے گی۔ تاہم ایسی صورت میں اس عورت پر دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کا کفارہ واجب ہے، البتہ اگردرمیان میں حیض کا خون آجائے تو حیض سے پاکی کے فورا بعد روزے رکھنا شروع کردے اور اس وقفہ  کی وجہ سے اس کا تسلسل ختم نہیں ہوگا۔

حوالہ جات:
1. الدر المختار للحصكفي مع رد المحتار، كتاب الجنايات 6/ 531:
   (و) الرابع (ما جرى مجراه) مجرى الخطأ (كنائم انقلب على رجل فقتله) ؛ لأنه معذور كالمخطئ (وموجبه) أي موجب هذا النوع من الفعل، وهو الخطأ وما جرى مجراه (الكفارة والدية على العاقلة)،والإثم دون إثم القاتل إذ الكفارة تؤذن بالإثم؛ لترك العزيمة.
2. فتح القدير لابن همام، كتاب الجنايات 10/ 214:
   قال (وما أجري مجرى الخطأ مثل النائم ينقلب على رجل فيقتله فحكمه حكم الخطأ في الشرع.
3. البحر الرائق لابن نجیم، کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده 2/298:
   وكذا في كفارة القتل والظهار للنص على التتابع إلا لعذر الحيض؛ لأنها لا تجد شهرين عادة لا تحيض فيهما.

واللہ أعلم بالصواب
ابوبكراحسان كاكاخیل
متخصص جامعة دارالعلوم كراچی

فتوی نمبر:240
دارالإفتاء أنوار الحرمين، مردان
تاریخ إجراء:2023-12-26

image_pdfimage_printپرنٹ کریں